اسلامی دنیاتاریخ اسلام

25 رجب، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قید خانے میں شہادت

جب تاریخ کے اوراق کو آنسوؤں سے تر کر کے پڑھا جائے تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کا باب دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ داستان ہے جس میں قید خانہ عبادت گاہ بن گیا، زنجیریں تسبیح ہو گئیں اور خاموشی نے فریاد کی صورت اختیار کر لی۔ آفتاب امامت کو بغداد کے تاریک زندانوں میں قید کر دیا گیا، مگر نورِ امامت کو قید نہ کیا جا سکا۔

اے کاظمِ غیظ! آپ وہ امام تھے جن کے صبر نے ظلم کو شرمندہ کر دیا۔ برسوں تک قید و بند کی سختیاں، تنگ و تاریک کوٹھڑیاں، درندہ صفت پہرے دار، مگر آپ کی زبان پر شکوہ نہ آیا، لبوں پر دعا رہی۔ رات کی تنہائی میں جب ظالم سکون کی نیند سوتے تھے، اس وقت آپ سجدے میں سر رکھ کر امت کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے تھے۔ کون سا دل ہوگا جو یہ منظر سوچ کر نہ تڑپ اٹھے؟

پھر وہ لمحہ آیا جب اس پیکرِ صبر کو زہر دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ 25 رجب، وہ دن جس نے اہلِ ایمان کے دلوں پر قیامت ڈھا دی۔ بغداد کے پل پر آپ کا زنجیروں سے جکڑا جنازہ رکھا گیا، گویا ظلم اعلان کر رہا تھا کہ ہم نے حق کو ختم کر دیا ہے۔ مگر اے مولا! اسی پل پر حق اور باطل کے درمیان فیصلہ ہو گیا؛ باطل ذلیل ہوا اور آپ کی مظلومیت نے قیامت تک کے لئے آپ کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

دل خون کے آنسو روتا ہے کہ آلِ محمدؐ کا وارث یوں تنہا، یوں بے یار و مددگار شہید کیا گیا۔ نہ جنازے پر کہرام، نہ آنسو پونچھنے والا، مگر فرشتے نوحہ کناں تھے اور آسمان لرز رہا تھا۔ آپ کی خاموش شہادت نے چیخ چیخ کر بتا دیا کہ خدا کے ولی کو قتل کیا جا سکتا ہے، مگر ان کے مشن کو نہیں۔

اے امامِ مظلوم! ہم آپ کی قبر پر حاضری دیں یا نہ دیں، مگر ہمارے دل آپ کی یاد میں ہمیشہ اسیر رہیں گے۔ آپ نے ہمیں سکھایا کہ ظلم کے مقابلے میں خاموش صبر بھی ایک بلند ترین جہاد ہے۔ آج بھی جب صبر ٹوٹنے لگتا ہے تو کاظمین کی زندان سے آپ کی آواز آتی ہے:
“غصے کو پی جاؤ، خدا پر بھروسہ رکھو، حق آخرکار غالب آئے گا۔”

سلام ہو آپ پر، اس دن جب آپ پیدا ہوئے، اس دن جب قید میں صبر کا پیکر بنے اور اس دن جب مظلومیت کے ساتھ جامِ شہادت نوش فرمایا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button