
ایران میں 28 دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر احتجاجات اپنے سترھویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے ذرائع اور ایران ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 648 مظاہرین جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 10000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹائم میگزین کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے، تاہم انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع پر سخت پابندیوں کے باعث آزادانہ تحقیقات اور جانی نقصان کا درست اندراج شدید مشکلات کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسف اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل، بچوں کے تحفظ، اور اظہارِ رائے و پُرامن اجتماع کی آزادی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی دوران فکسڈ انٹرنیٹ، موبائل ڈیٹا اور اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک رسائی میں وسیع پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے، جس کے باعث صارفین محدود حد تک ہی احتجاجات سے متعلق خبریں اور تصاویر دنیا تک پہنچا پا رہے ہیں۔
ماہرین اور مبصرین، جن میں فرانسیسی نژاد الجزائری مصنف کمال داوود بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ احتجاجات محض معاشی نوعیت کے نہیں بلکہ آزادی، انسانی وقار کے مطالبہ اور سیاسی نظام کے جبر کے خلاف آواز ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ دستیاب مناظر محدود ہیں، مگر گولی باری، بچوں کی گرفتاری اور سڑکوں پر تشدد کی چونکا دینے والی تصاویر حکومتی جبر کے طریقۂ کار اور ان احتجاجات کی بھاری قیمت کو بے نقاب کرتی ہیں، جو عالمی برادری کے لئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔




