
یوپی کے ایک گائوں میں مسلم خاندانوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ وہ 24؍ گھنٹوں کے اندر گاؤں چھوڑ دیں، ورنہ انہیں ’’زندہ جلا دیا جائے گا‘‘۔ یہ دھمکیاں جنوری 2026ء کو گمنام پمفلٹس کے ذریعہ دی گئیں، جن میں مسلمانوں کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ پمفلٹس پر ’’کٹر سناتنی وکرم‘‘ کے فرضی نام سے دستخط تھے۔
اس واقعہ کے بعد گائوں کے مسلم خاندانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ساجد علی نامی ایک رہائشی کو یہ پمفلٹ اس وقت ملا جب وہ فجر کی نماز کے لئے مسجد جا رہے تھے۔ پمفلٹ موصول ہونے کے بعد گائوں میں زیادہ تر لوگ گھروں میں ہی رہے۔ یہ واقعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ گائوں کے مسلمان تحفظ کے لئے مطالبہ کر رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبائی گھر نہیں چھوڑیں گے۔ اس دھمکی نے گائوں کے مسلمانوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے، اور اب وہ اپنی حفاظت کے لیے رات بھر جاگ کر پہرا دیتے ہیں۔


