طالبان کا تنقید کو خاموش کرنے کا تازہ فرمان؛ افغانستان کے میڈیا اور شہریوں پر نئی پابندیاں

طالبان انتظامیہ کے سربراہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے فرمان کے ساتھ، اس گروہ کے افراد کے خلاف ہر قسم کی تنقید، الزام اور یہاں تک کہ بدگوئی کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسا ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں افغانستان میں اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے اور جوابدہی کو کمزور کرنے کی سمت میں ایک نیا قدم قرار دے رہی ہیں۔
ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ فرمایں :
طالبان کے سربراہ نے ایک نئے فرمان جاری کر کے میڈیا، شہریوں اور یہاں تک کہ اپنے ارکان کے خلاف ممانعتوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
افغانستان کے ٹیلی گرام چینل "خبر تازہ” کی رپورٹ کے مطابق، اس فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان افراد کے خلاف جسے "حقیقت سے دور تنقید” کہا جاتا ہے، اس کا اظہار جائز نہیں ہے اور اس گروہ کے افراد کے بارے میں ہر قسم کی بدگوئی، توہین یا یہاں تک کہ ان کے لباس کو نقصان پہنچانا جرم تصور کیا جائے گا اور اس کے لیے "سزا” مقرر کی گئی ہے۔
اس حکم نامے کے متن میں عدالتوں کی توہین یا عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کو بھی قابل تعاقب عمل قرار دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں عوامی نگرانی کو شدید طور پر بڑھاتی ہیں اور افغان شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
ان تنظیموں کے مطابق، آزادانہ تنقید کے امکان کو ختم کرنا، حکمران ڈھانچے کی جوابدہی کے راستے کو مسدود کرتا ہے اور من مانی اور سیکیورٹی پر مبنی کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔
یہ فرمان ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب چند ہفتے پہلے بھی طالبان کے سربراہ نے متنازعہ تقریر میں اپنے جاری کردہ فرمانات کو مذہب اور الہی مرضی سے منسوب کیا تھا۔
شیعہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی نیوز ایجنسی سے نقل کرتے ہوئے، انہوں نے قندھار میں اپنی تقریر میں زور دے کر کہا تھا کہ طالبان کے قوانین افراد کی رائے کا نتیجہ نہیں بلکہ مذہبی احکام کا اظہار ہیں۔
تجزیہ کاروں نے ان بیانات کو مخالفتوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور طالبان کے اندرونی اختلافات پر قابو پانے کی کوشش قرار دیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی فرمانات کو مذہبی تصورات سے جوڑنا اور ساتھ ہی تنقید کو جرم قرار دینا، طالبان کے ڈھانچے میں سب سے اوپر انفرادی طاقت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران، ان فرمانات کے ایک قابل ذکر حصے نے بنیادی حقوق اور آزادیوں، خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں کے تعلیمی اور سماجی حقوق کو محدود کیا ہے۔
ناظرین کے مطابق، نیا فرمان نہ صرف افغانستان کی میڈیا اور شہری فضا کو تنگ تر کرتا ہے، بلکہ حکمران ڈھانچے میں ہر قسم کی تنقید کی عدم برداشت کے بارے میں واضح پیغام بھیجتا ہے؛ ایک ایسا راستہ جو سماجی کشیدگی اور انسانی حقوق کے خدشات میں اضافہ کر سکتا ہے۔



