ایران میں معاشی احتجاجات؛ قیمتوں میں شدید اضافہ سے لے کر اسپتالوں پر یلغار تک
ایران میں معاشی احتجاجات؛ قیمتوں میں شدید اضافہ سے لے کر اسپتالوں پر یلغار تک
بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں شدید اضافے، گھریلو قوتِ خرید میں کمی اور معاشی نابرابری میں اضافے نے ایران میں احتجاجات کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔
یہ احتجاجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سکیورٹی کارروائیوں، طبی مراکز پر حملوں اور ہلاکتوں و گرفتاریوں میں اضافے نے سنگین سماجی اور انسانی حقوق کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:
ایران میں معاشی بحران حالیہ ہفتوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
زرِ مبادلہ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بے مثال دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں غذائی اشیاء کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ صورتِ حال بالخصوص بچوں اور کم آمدنی والے لوگوں کے لئے نہایت تشویشناک نتائج کی حامل ہے۔
خبرآنلاین خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایران کی پارلیمان کے ایک رکن نے خبردار کیا ہے کہ 30 سے 40 فیصد تک بلند افراطِ زر کے باعث سرمایہ پیداواری شعبے سے نکل کر سونا اور زرِ مبادلہ کی منڈیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
ان کے بقول اگر یہ رجحان جاری رہا تو گوشت کی قیمت چند ملین تومان تک پہنچ سکتی ہے اور مرغی کی قیمت 250 ہزار تومان سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اسی طرح انڈیپنڈنٹ فارسی کی رپورٹ کے مطابق، خوردنی تیل کی قیمت میں 260 فیصد اضافہ حالیہ قیمتی جھٹکوں کی ایک مثال ہے جس نے عوامی معاشی دباؤ کو مزید شدید کر دیا ہے۔
ادھر باشگاه خبرنگاران جوان نے مرغی کی فی کلو قیمت 236 ہزار تومان بتائی ہے، جبکہ اقتصادآنلاین کے مطابق آن لائن اسٹورز میں انڈوں کی ایک ٹرے کی قیمت 420000 تومان تک پہنچ چکی ہے اور ایک انڈے کی قیمت تقریباً 14000 تومان ہے۔ یہ فرق مارکیٹ کی بدحالی اور قیمتوں پر قابو پانے میں ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان معاشی تبدیلیوں کے ساتھ ہی عوامی احتجاجات کا آغاز تہران کی منڈیوں سے ہوا جو بعد ازاں دیگر شہروں تک پھیل گئے۔
ڈوئچے ویلے کے مطابق، تجارتی مراکز میں دکانوں کی بندش ان احتجاجات کی علامت ہے اور یہ صورتحال جمع شدہ عوامی بے چینی اور زرِ مبادلہ کی قیمت میں اچانک اضافے کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرِ مبادلہ کی گھنٹہ وار اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لئے معمول کی معاشی سرگرمیاں ناممکن بنا دی ہیں۔
انسانی حقوق کے پہلو سے، مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے اقدامات پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ہرانا کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں نے تہران کے سینا اسپتال کے احاطے میں آنسو گیس پھینکی اور شہریوں کی آمد و رفت محدود کی، جو طبی مراکز کے تقدس کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ڈوئچے ویلے کے مطابق، اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایلام کے امام خمینی اسپتال پر یلغار کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ نے بھی حالیہ صورتحال پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مظاہرین کی ہلاکتوں اور عوامی اجتماعات کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ہر حال میں طبی مراکز کو محفوظ رہنا چاہیے اور زخمیوں کو طبی سہولیات تک رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایرانی سکیورٹی فورسز سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دریں اثنا ایران ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجات کے کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 27 افراد، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک اور 1000 سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایران میں جاری بحران کے انسانی اور سماجی پہلوؤں کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔




