انڈونیشیائی محقق کی جانب سے معذور افراد کو قرآن کی تعلیم دینے کی کوشش

املیہ قادر، انڈونیشیائی محقق اور موجد، نے "اقرا سرداس” (Iqra Cerdas) کے نام سے ایک جدید طریقہ متعارف کراتے ہوئے ذہنی طور پر کمزور افراد کو قرآن کریم کی قرأت اور کتابت کی تعلیم دینے میں کامیابی کی خبر دی۔
یہ خصوصی طریقہ ذہنی اور جسمانی معذوری کے حامل گروہوں کے لیے قرآن سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس حوالے ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے
"اقرا سرداس” (Iqra Cerdas) جو املیہ قادر، انڈونیشیائی محقق اور مبتکر نے تیار کیا ہے، خاص طور پر ان مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جو ذہنی یا جسمانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
روزنامہ "المدینہ” کی رپورٹ کے مطابق، یہ طریقہ مختلف گروہوں کے افراد، بشمول معذور افراد، بزرگ اور نو مسلموں کے لیے قرآن کی قرأت اور کتابت سیکھنے میں سہولت پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
املیہ قادر نے "المدینہ” سے بات چیت میں زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کسی خاص گروہ تک محدود نہیں ہے اور اسے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں ملتے جلتے نصاب کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "اقرا سرداس کا بنیادی مقصد قرآن سیکھنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اور اس طریقے نے ہر مسلمان کی، قطع نظر جسمانی یا ذہنی صلاحیتوں کے، قرآن سے رابطہ قائم کرنے میں مدد کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔”
یہ جدید طریقہ بریل ایڈیشن کے استعمال سے نابینا طلبا کو ماہر اساتذہ کی تعلیم کا موقع فراہم کرتا ہے اور مخلوط تعلیم کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔
"اقرا سرداس” نو مسلموں کے لیے خود مختار طریقے سے سیکھنے کے مواقع پیدا کر کے دین کی گہری سمجھ اور معاشرے میں بہتر انضمام کو آسان بناتا ہے۔
یہ انڈونیشیائی محقق یقین رکھتے ہیں کہ یہ اقدام، افراد کو بااختیار بنانے اور سیکھنے کے مراحل کو آسان بنانے کے ذریعے، عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور فروغ پر مثبت اور قابل ذکر اثر ڈالے گا۔
ان کے بقول، "یہ طریقہ تعلیمی انصاف کی جانب ایک مؤثر قدم ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے کتاب اللہ تک رسائی کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔”



