دنیایورپ

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی اور حکومت کی نئی پالیسیاں

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں کی تعداد سال 2025 میں ایک تہائی تک کم ہو گئی ہے۔

وزارت داخلہ اس کمی کو وفاقی حکومت کی نئی ہجرت پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے اور غیر مستحق تارکین وطن کی آمد پر قابو پانے اور ہجرت کے عمل کو منظم کرنے میں اس کے اثرات پر زور دیتی ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں کی تعداد سال 2025 میں سال 2024 کے مقابلے میں تقریباً 82 ہزار کیسز کم ہوئی ہے، جو 32.8 فیصد کی کمی کے برابر ہے۔

اخبار "بلڈ ام زونٹاگ” کی رپورٹ کے مطابق، جرمن وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، ابتدائی اور دوبارہ پناہ کی درخواستوں کی تعداد 2024 میں 250,945 سے کم ہو کر گزشتہ سال 168,543 رہ گئی۔

ان اعداد و شمار کے مطابق، موازنے میں سال 2023 میں 351 ہزار سے زیادہ پناہ کی درخواستیں درج کی گئی تھیں۔

ڈوئچے ویلے فارسی کی رپورٹ کے مطابق، جرمن وزارت داخلہ اس نمایاں کمی کو وفاقی حکومت کی نئی پناہ کی پالیسی سے منسوب کرتی ہے، جس میں سرحدوں پر غیر مستحق تارکین وطن کی واپسی، پناہ گزینوں کے خاندانی افراد کی شمولیت کی معطلی، اور "تیز رفتار شہریت کی فراہمی” کے نام سے موسوم سابقہ ضوابط کی منسوخی شامل ہے۔

کرسچن سوشل یونین پارٹی سے تعلق رکھنے والے جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے "بلڈ ام زونٹاگ” سے گفتگو میں زور دے کر کہا: "جرمنی شفافیت اور فیصلہ کن انداز میں ہجرت کے عمل کو منظم کر رہا ہے۔ جو شخص حمایت کا مستحق نہیں ہے، اسے داخل نہیں ہونا چاہیے اور جرم کے مرتکب افراد کو واپس بھیجا جانا چاہیے۔”

جرمن پولیس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ دو سال سے اس ملک میں افراد کی غیر قانونی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

کرسچن سوشل یونین پارٹی نے ایک اندرونی دستاویز میں ہجرت کی پالیسی میں مزید سختی اور سرحدوں پر زیادہ باریک بینی سے کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پناہ کی درخواستوں میں ایک تہائی کمی، تارکین وطن کو واضح پیغام بھیجنے اور اس ملک میں سیکیورٹی اور سماجی نظم کو مستحکم کرنے میں جرمن حکومت کی نئی پالیسیوں کی تاثیر کو ظاہر کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button