چیک جمہوریہ میں مسلم برادری کو اسلامی تدفین کے سلسلے میں درپیش بڑے چیلنجز
چیک جمہوریہ میں مسلم برادری کو اسلامی تدفین کے سلسلے میں درپیش بڑے چیلنجز
چیک جمہوریہ میں تقریباً پچاس ہزار نفوس پر مشتمل مسلم برادری کو اسلامی طریقہ کے مطابق تدفین کے معاملے میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بڑے شہروں، خصوصاً پراگ میں، آزاد اور مستقل اسلامی قبرستانوں کی عدم موجودگی کے باعث مسلمانوں کو عوامی قبرستانوں کے محدود حصوں میں اپنے مرحومین کی تدفین پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
یہ مسئلہ محض تدفین کی عملی دشواری تک محدود نہیں، بلکہ اسے مسلم برادری کے دینی حقوق سے چشم پوشی اور بعض حلقوں کی جانب سے امتیازی رویّے کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ مسلمانوں کی جانب سے مستقل اسلامی قبرستان کے قیام کے لئے بارہا مطالبات کئے گئے ہیں، تاہم مسلمانوں کو باضابطہ طور پر مذہبی اقلیت تسلیم کیے جانے اور بلدیاتی اداروں کی منظوری جیسے قانونی و انتظامی تقاضوں کے باعث یہ کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال چیک جمہوریہ میں مسلم معاشرے پر عائد مسلسل دباؤ اور محدودیتوں کی عکاسی کرتی ہے، اور اس بات کی متقاضی ہے کہ مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کئے جائیں۔




