امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں زمان و مکان سے ماورا زہد اور رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا: لبنانی عیسائی پادری باسم الراعی
امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں زمان و مکان سے ماورا زہد اور رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا: لبنانی عیسائی پادری باسم الراعی
لبنان کے ممتاز عیسائی پادری اور سیاسی فلسفہ کے پروفیسر باسم الراعی نے ایک میڈیا انٹرویو میں واضح کیا کہ امام علی علیہ السلام نے اپنے معاشرے کو فکری، سماجی اور سیاسی حدود سے بلند ہو کر دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ امام علیؑ کی نگاہ اپنے عہد کی تنگ نظریوں سے بالاتر تھی اور آپؑ نے انسانی معاشرے کو ایک ہمہ گیر اور آفاقی زاویۂ نظر سے سمجھا۔
انہوں نے مزید کہا: "نہج البلاغہ امام علی علیہ السلام کی وسعتِ فکر، عدل پسندی اور زاہدانہ رجحان کا آئینہ دار ہے اور اس کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے الہام کا سرچشمہ ہیں۔”
باسم الراعی نے اقتدار اور حکومت کے مقابل امام علی علیہ السلام کے زہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ زہد محض ترکِ دنیا نہیں بلکہ شعوری آزادی، طاقت سے عدم وابستگی اور تشدد سے دوری کا عملی اظہار ہے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محروموں اور کمزوروں کے ساتھ امام علی علیہ السلام کی رحمت اور ہمدردی نے آپؑ کو دینی اور ثقافتی سرحدوں سے بلند کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی شخصیت ہر انسان کے لیے قابلِ احترام ہے۔
ان کے مطابق، نہج البلاغہ کے انسانی اصول تمام بنی نوع انسان کے لئے مشترک ہیں اور ہر دور اور ہر معاشرے میں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔




