آسٹریلیا

آسٹریلیا میں اسلام مخالف دھمکیوں میں شدید اضافہ؛ مساجد کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کے عملی اقدامات

آسٹریلیا میں اسلام مخالف دھمکیوں میں شدید اضافہ؛ مساجد کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کے عملی اقدامات

بونڈی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد آسٹریلیا میں مسلمانوں کے خلاف اسلام مخالف (اسلاموفوبک) حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مسلمان برادری کو دھمکیوں، توہین آمیز رویّوں، مساجد کی توڑ پھوڑ اور آن لائن نفرت انگیز پیغامات کا سامنا ہے، جس سے اسلامی معاشرے میں شدید خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

اے بی سی نیوز (ABC News) کی رپورٹ کے مطابق، ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں مسلمان مساجد کو ممکنہ تخریب کاری سے بچانے کے لئے رات کے اوقات میں مساجد کے اندر قیام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔

اسی دوران آسٹریلیا کی نیشنل کونسل آف ائمہ جمعہ و جماعت نے انکشاف کیا کہ مذکورہ حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب، خبر رساں ادارے اے ایف پی (Agence France-Presse) کے مطابق شہر ملبورن میں بھی متعدد مساجد کو ای میل کے ذریعے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

ماہرین اور مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں اور قانونی اقدامات کئے جائیں، تاکہ نفرت پر مبنی جرائم کا سدباب ہو سکے اور معاشرے میں امن، رواداری اور مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button