تاریخ اسلاممقالات و مضامین

13 رجب: امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی بے شمار فضیلتوں میں سے ایک منفرد اور نمایاں فضیلت یہ ہے کہ آپ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی۔ یہ عظیم الٰہی معجزہ ماہ رجب المرجب کی 13 تاریخ کو رونما ہوا اور اس دن سے عالم میں نور کی کرنیں پھوٹ پڑیں۔

ولادت سے قبل کی پیشین گوئیاں

حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت سے قبل کئی راہبوں نے آپ کی آمد کی خبر دی تھی۔ جحفہ کے راہب نے حضرت ابو طالب علیہ السلام کو خواب کی تعبیر دیتے ہوئے بشارت دی کہ عنقریب ان کے ہاں ایک بلند مرتبہ اور سعادت مند فرزند کی ولادت ہوگی۔

شام کے راہب ابوالمویہب نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی نبوت کی خبر دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے ہاں "علی” نام کا فرزند پیدا ہوگا جو سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ پر ایمان لائے گا۔ راہب نے کہا کہ ان کا نام عالم بالا میں علی ہے اور فرشتے انہیں شجاع، خوش رو اور غالب کہہ کر پکارتے ہیں۔

ایک اور راہب مثرم نے 190 برس تک عبادت کرنے کے بعد اللہ سے التجا کی کہ اسے اپنے کسی ولی کی زیارت کرائے۔ اللہ نے حضرت ابو طالب علیہ السلام کو اس کے پاس بھیجا اور راہب نے خوشی سے ان کے سر کا بوسہ لیا۔ اس نے بشارت دی کہ آپ کی صلب سے ایک ولی اللہ پیدا ہوگا جو متقین کا امام اور رب العالمین کا وصی ہوگا۔

ولادت کے غیر معمولی واقعات

شب جمعہ 13 رجب، 30 عام الفیل کو جب حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کو دردِ زہ محسوس ہوا، تو حضرت ابو طالب علیہ السلام نے مدد کے لیے خواتین کو بلانا چاہا۔ اچانک ایک غیبی آواز نے کہا کہ ولی خدا کو نجس ہاتھ نہیں چھو سکتا۔

صبح کے وقت جب دوبارہ درد شروع ہوا تو حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا نے ایک آواز سنی جس نے کہا کہ خدا کے گھر کی طرف جائیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور حضرت ابو طالب علیہ السلام انہیں کعبہ کے قریب لے گئے۔

خانہ کعبہ کی دیوار کا معجزانہ انشقاق

جب حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا پشت کعبہ پر دعا میں مشغول تھیں تو ایک عظیم معجزہ رونما ہوا۔ خانہ کعبہ کی دیوار بغیر کسی نقصان کے شق ہو گئی اور آپ اس شگاف سے کعبہ کے اندر داخل ہو گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر تمام لوگ حیران رہ گئے۔

حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا تین دن کعبہ کے اندر رہیں۔ اس دوران انہیں جنتی نعمات سے نوازا گیا، غیبی پیغامات سنائی دیے اور ملکوتی مناظر دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ خداوند عالم نے کعبہ کے تالے کو اتنا مضبوط کر دیا کہ کوئی بھی انسان اسے نہ کھول سکا۔

مولود کعبہ کی ولادت

تین دن بعد جب حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کعبہ سے باہر تشریف لائیں تو یہ عظیم خبر دی کہ انہوں نے خدا کے گھر میں اپنے فرزند کو جنم دیا ہے۔ مولود کعبہ حضرت امام علی علیہ السلام نے پیدائش کے فوراً بعد سجدہ کیا اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اعلان فرمایا: "گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اللہ کے پیغمبر ہیں اور علی، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے وصی ہیں۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس مبارک ولادت پر فرمایا کہ آج رات ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بے شمار رحمت اور نعمت کے دروازے کھولے گا۔ آپ نے اس سال کو "سال خیر و برکت” کا نام دیا۔

الٰہی مبارکباد

اللہ تعالیٰ نے پہلی بار جس مولود کی ولادت پر مبارکباد بھیجی، وہ حضرت امام علی علیہ السلام تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آئے اور اللہ کا پیغام لے کر آئے کہ اللہ نے آپ کو آپ کے بھائی علی علیہ السلام کی ولادت پر مبارکباد دی ہے اور فرمایا کہ عنقریب آپ کی نبوت کا اعلان ہونے والا ہے۔

نام گذاری کا واقعہ

حضرت ابو طالب علیہ السلام صبح کو مسجد الحرام میں داخل ہوئے اور اللہ سے اشعار کے ذریعے پوچھا کہ اس بچے کا نام کیا رکھیں۔ اس پر آسمانی آواز آئی جس نے بتایا کہ اس کا نام بلند مرتبہ سے "علی” رکھا گیا ہے جو خداوند عالی سے مشتق ہے۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام نے خوشی سے سجدہ کیا اور دس اونٹ عقیقہ کیے۔

معجزانہ علم و تلاوت

حضرت امام علی علیہ السلام نے ولادت کے فوراً بعد حضرت آدم علیہ السلام کے صحیفے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات، حضرت داود علیہ السلام کی زبور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل کی تلاوت فرمائی۔ نیز آپ نے قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہی سورہ مومنون کی تلاوت کی، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ مؤمنین آپ کی وجہ سے کامیاب ہوئے اور آپ ان کے امیر اور رہنما ہیں۔

یہ ولادت باسعادت اسلامی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے جو حضرت امام علی علیہ السلام کی عظمت اور بلند مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button