اسلامی دنیا

امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی سادہ زندگی اور عوامی طرزِ حکومت

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی پیروی میں انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی بسر فرماتے تھے۔ آپ شاہانہ اور تشریفاتی طرزِ زندگی کے سخت مخالف تھے، اور یہ بات آپؑ کی عملی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔
حتیٰ کہ حضرت علیہ السلام کا لباس بھی حکمرانوں اور بادشاہوں کے لباس سے بالکل مختلف، نہایت سادہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ اگر کسی محفل میں کوئی نیا شخص آ جاتا تو وہ پہچان ہی نہیں پاتا تھا کہ حاضرین میں سے کون حضرت امیر علیہ السلام ہیں!

امام علی علیہ السلام اگرچہ اسلامی حکومت کے حاکم اور اپنے زمانے کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے، لیکن اس کے باوجود نہ کبھی اپنے لئے خاص محافظوں کا دستہ بنایا، نہ ذاتی گارڈ رکھا اور نہ ہی کسی قسم کی حکومتی تشریفات اختیار کیں؛ کیونکہ آپ کی حکومت کا اصل مرکز لوگوں کے دل تھے، یہاں تک کہ آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی لطف و مہربانی کا برتاؤ کرتے تھے۔

جب آپ کے مخالفین آپؑ کے سامنے نازیبا کلمات کہتے یا گستاخی کرتے تو حضرت علیہ السلام انہیں سزا نہیں دیتے تھے؛ اسی وجہ سے مخالفین بھی آپ کو ایک شایستہ رہبر سمجھتے تھے اور آپ کی حکومت میں خود کو آزاد محسوس کرتے تھے۔

اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال حضرت علیہ السلام کے قاتل کی گرفتاری کے وقت ملتی ہے۔ جب حضرت نے اس سے ملاقات کی تو فرمایا: "کیا میں بُرا امام تھا (یا میں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی تھی کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیا)؟” ابنِ ملجم، جو آپ کا دشمن اور قاتل تھا، نے جواب دیا: "نہیں!”

حضرت امیر علیہ السلام نے اس طرح دنیا پر واضح کر دیا کہ آپ کا قاتل کسی ظلم یا ناانصافی کی بنا پر اس جرم کا مرتکب نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ ابنِ ملجم کی اپنی پستی تھی جس نے اسے اس سنگین جرم پر آمادہ کیا۔

(علی علیہ السلام خورشیدی در افقِ بشریت، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ)

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button