اسلامی دنیاتاریخ اسلام

2 جنوری؛ یوم شہادت شہیدِ صداقت و شعور آیۃ اللہ شیخ باقر النمر

تاریخ کے بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گردش میں گم نہیں ہوتے بلکہ وقت کو خود اپنی گردش کا مفہوم عطا کرتے ہیں۔ 2 جنوری 2016 ایسا ہی ایک دن تھا؛ جس دن ظلم نے ایک جسم کو خاموش کیا، مگر حق کی زبان کو ہمیشہ کے لئے گویا کر دیا۔ شہید آیۃ اللہ شیخ باقر النمر کی شہادت محض ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ عصرِ حاضر میں حسینی شعور کی تجدید اور زینبی جرات کا اعلان ہے۔

آیۃ اللہ باقر النمر کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے دین کو دربار کا تابع نہیں بنایا، بلکہ دین کے ذریعہ دربار کو جواب دہ بنایا۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں علماءِ ربانی اور علماءِ درباری کے درمیان واضح خطِ امتیاز قائم ہو جاتا ہے۔ آپ کی فقاہت محض بیان تک محدود نہ تھی، بلکہ سماجی انصاف، سیاسی اخلاقیات اور انسانی وقار کے اصولوں سے جڑی ہوئی تھی۔

فقیہ مجاہد شہید النمرؒ اس فقہ کے نمائندہ تھے جسے فقہِ خاموشی نہیں بلکہ فقہِ مزاحمت کہا جاتا ہے؛ وہ فقہ جو ظلم کے مقابلے میں تقیہ کو دائمی پناہ گاہ نہیں بناتی بلکہ اسے حکمت کے دائرے میں محدود رکھتی ہے۔ آپ کے نزدیک "جب ظلم اجتماعی صورت اختیار کر لے تو خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔”

یہی نظریہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے ماخوذ ہے، جہاں امام حسین علیہ السلام کا قیام فقہِ عملی کی اعلیٰ ترین بلکہ اکمل و اتم مثال ہے۔ آیۃ اللہ النمر نے اسی حسینی منہج کو جدید سیاسی اور سماجی تناظر میں زندہ کیا۔

شہید النمر کی خطابت میں جو تاثیر تھی وہ محض الفاظ کا جادو نہ تھا بلکہ فکر کی صداقت تھی۔ وہ عوام سے اوپر کھڑے ہو کر بات نہیں کرتے تھے بلکہ عوام کے درمیان کھڑے ہو کر ان کے ضمیر سے مخاطب ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی باتیں خوف زدہ نہیں کرتیں بلکہ بیدار کرتی تھیں۔

آپ کا اسلوب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عالمِ دین کا اصل منصب اقتدار کے سائے میں تحفظ حاصل کرنا نہیں بلکہ حق کے سائے میں کھڑا ہونا ہے، چاہے اس سائے کی قیمت دار کیوں نہ ہو۔

ادبی جہت سے شہید النمر کی شہادت ایک زندہ متن (Living Text) ہے—ایسا متن جو پڑھا بھی جاتا ہے اور جیا بھی جاتا ہے۔ ان کا لہو حجاز کی ریت پر روشنائی بن کر گرا اور تاریخ نے اسے اپنے اوراق میں ثبت کر لیا۔ یہ وہ سطر ہے جس میں الفاظ کم اور معنی بہت زیادہ ہیں۔

ان کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کچھ لوگ مر کر ختم نہیں ہوتے، بلکہ مر کر اَمَر اور مکمل ہوتے ہیں۔

2 جنوری ہر سال ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہم شہید النمر کو صرف ایک مظلوم عالم کے طور پر یاد کریں گے یا ایک زندہ فکر کے طور پر اپنائیں گے؟
کیونکہ شہداء کو صرف رونے کی نہیں، سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے؛ اور سمجھنے کے بعد ان کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔

شہید آیۃ اللہ باقر النمر کا پیغام آج بھی تازہ ہے کہ

ظلم کے خلاف خاموشی اختیار نہ کرو۔

دین کو عدل سے جدا نہ کرو

اور حق کی قیمت ادا کرنے سے خوف زدہ نہ ہو

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
آیۃ اللہ باقر النمر کی شہادت،
تاریخ کے ماتھے پر ثبت وہ سجدہ ہے
جو انسانیت نے حق کے حضور ادا کیا۔

2 جنوری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہادت اختتام نہیں، بلکہ سفر حق کی ابتدا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button