
طالبان کی جانب سے خواتین ملازمین پر عائد پابندیوں کے سبب معطل کی گئی سرگرمیوں کے بعد، اقوام متحدہ نے اسلامقلعہ کے سرحدی مرکز میں اپنے بعض پروگرام دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے بتایا کہ محکمۂ صحت کی کچھ خواتین ملازمین واپس ڈیوٹی پر آگئی ہیں اور محدود طبی خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔
ٹام فلیچر نے خبر دی کہ شدید مالی بحران اور 300 سے زائد غذائی مراکز کی بندش نے افغانستان کے لاکھوں ضرورت مند افراد کو شدید بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف تمام پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ امدادی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو سکیں۔




