نیدرلینڈز کا غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے درآمدات پر پابندی کا منصوبہ آگے بڑھانے کا اعلان
نیدرلینڈز کا غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے درآمدات پر پابندی کا منصوبہ آگے بڑھانے کا اعلان
نیدرلینڈز نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطین میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے قانون سازی جاری رکھے گا، حالانکہ گزشتہ ماہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر وسیع تر پابندیوں کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے کہا کہ یہ جزوی پابندی اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ اور فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے ردعمل کے طور پر لائی جا رہی ہے، جو ان کے مطابق دو ریاستی حل کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
پانچ یورپی ممالک — اسپین، سلووینیا، آئرلینڈ، بیلجیم اور فن لینڈ — پہلے ہی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت محدود کرنے کی طرف بڑھ چکے ہیں۔
اسپین اور سلووینیا نے برآمدات پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ آئرلینڈ اور بیلجیم میں متعلقہ قانون سازی جاری ہے۔
فان ویل نے اعتراف کیا کہ نیدرلینڈز میں پیش رفت سست ہے کیونکہ یورپی یونین کی تجارتی پالیسی کے تحت انفرادی ممالک یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکتے۔ کسی بھی قانون کو پہلے پارلیمنٹ سے منظور ہونا لازمی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر میں مغربی کنارے پر فلسطینیوں پر روزانہ اوسطاً آٹھ حملے ریکارڈ کیے گئے، جو تقریباً بیس برسوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
اسی دوران، کئی یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے بعد آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر یورپی سطح کی پابندیاں عائد کرے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ اسرائیلی بستیوں سے ہونے والی برآمدات یورپی یونین-اسرائیل تجارت کا چھوٹا حصہ ہیں، لیکن متحدہ یورپی اقدام ایک مضبوط سیاسی پیغام دے سکتا ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے حق میں ہوگا۔




