انڈونیشیا میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر ہزاروں افراد کا پارلیمنٹ کا گھیراؤ
انڈونیشیا میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر ہزاروں افراد کا پارلیمنٹ کا گھیراؤ
اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف عوام مشتعل ہو گئی اور پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز دارالحکومت جکارتہ میں اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ ہزاروں مظاہرین مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور ایوان نمائندگان کا گھیراؤ کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے میں انڈونیشیا میں فعال کئی تنظیمیں جن میں یونیورسٹی آف اندرا پراستا، انڈونیشین مسلم اسٹوڈنٹس یونین اور اسٹوڈنٹ ایگزیکٹو باڈی شامل تھیں کی جانب سے کیا گیا۔ احتجاج میں شامل نوجوانوں میں سے اکثریت نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے۔
مظاہرین کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس وقت جھڑپ ہوئی، جب وہ آگے بڑھنے کے لیے ایک رکاوٹ کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن فائر کیے۔
پولیس کی شیلنگ کے جواب میں مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا، جس نے بعد پولیس نے پیش قدمی کرتے ہوئے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے جب کہ ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہیں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسا کرنا عوام پر ظلم اور ناانصافی ہے۔