لکھنو۔ شاہی آصفی مسجد میں 29 اگست 2025 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ علمیہ غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: 10 محرم کو شخصِ امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی لیکن شخصیت امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ وہ عظیم شخصیت جو عطا کرنے والی ہے، دنیا کو عزت عطا کی، انسانیت کو غیرت عطا کی، مظلوموں کو حوصلہ عطا کیا، اہل حق کو شجاعت عطا کی، غافل امت کو بیداری عطا کی اور قیامت تک کے گنہگاروں کو شفاعت عطا کی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے ابن شاذان کی کتاب میں عبداللہ بن عمر سے منقول روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میرے ذریعہ تمہیں ڈرایا گیا، علی علیه السلام کے ذریعہ ہدایت دی گئی، حسن علیه السلام کے ذریعہ سے نیکی عطا کی گئی اور حسین علیه السلام کے ذریعہ تم سعادت اور کامیابی حاصل کرو گے۔” بیان کرتے ہوئے کہا: روایات کی روشنی میں جو امام حسین علیہ السلام سے محبت کرے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو امام حسین علیہ السلام سے دشمنی کرے گا وہ شقی و بدبخت ہوگا اور اسے جنت کی خوشبو بھی نصیب نہیں ہوگی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مزید فرمایا: "امام حسین علیہ السلام جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں۔” لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ اس دروازے کو تمام لوگوں کے لئے کھلا رکھیں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے لوگ دور ہو جائیں اور کسی کے حُر بننے سے رکاوٹ نہ بنیں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اس ہفتہ کی اہم مناسبت یوم شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن نے دو بار سامرا کے روضہ مبارک پر حملہ کیا، وہ احمق و نادان یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر یہ روضے منہدم ہو جائیں گے تو ان کا ذکر مٹ جائے گا جبکہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ عمارتیں تو ایک مظہر ہیں ورنہ ہر مومن کے دل میں معصومین علیہم السلام کا روضے موجود ہیں۔
امت کی ہدایت کے سلسلہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: امام حسن عسکری علیہ السلام کی کُل عمر مبارک 28 برس ہے۔ سامرا میں عباسی خلفاء کے شدید پہرے اور سختیوں کے درمیان آپ نے اپنی مدت امامت گذاری۔ سختیاں اس قدر تھیں کہ کوئی آپ سے مل نہیں سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ نے ہدایت کا وہ انتظام کیا کہ قیامت تک کوئی گمراہ نہ ہو سکے۔ اسی طرح لوگوں کو عصر غیبت کی تربیت فرمائی۔