تاریخ اسلام

5 ربیع الاول 965 ہجری، یوم شہادت شہید ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہ

جناب زین الدین بن نور الدین علی بن احمد عاملی جُبَعی المعروف بہ شہید ثانی رحمۃ اللہ علیہ دسویں صدی ہجری کے نامور شیعہ علماء و فقہاء میں سے ہیں۔ آپ نے شیعہ و اہل سنت علماء سے کسب فیض کیا۔
شہید ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو تمام اسلامی مذاہب (جعفری، حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی) کی فقہ پر عبور حاصل تھا، انکی تدریس فرماتے اور ان سب کے مبانی کے اعتبار سے فتوی دیتے تھے۔
آپ کی مشہور کتاب الروضة البهیة فی شرح اللمعة الدمشقیة حوزات علمیہ کے نصاب تعلیم کی زینت ہے۔
شہید ثانی کی دوسری کتاب منیۃ المرید فی آداب المفید و المستفید رہتی دنیا تک آداب تعلیم و تعلم کے سلسلہ میں طلاب کی بہترین مددگار ہے۔
اسی طرح آپ نے مختلف دیگر موضوعات پر کتب تالیف فرمائی۔
توجہ رہے کہ شہید اول اور شہید ثانی رحمۃ اللہ علیہما کی عمر کم تھی لیکن بہت با برکت تھی۔ دونوں شہیدوں نے بہت ہی مفید کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ جو ہمارے لئے درس ہے کہ ہم اپنی عمر کو بے کار کاموں میں برباد نہ کریں۔
5 ربیع الاول سن 965 ہجری کو شہید ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو  انتہائی مظلومیت کے ساتھ سمندر کے کنارے شہید کیا گیا، 3 دن تک ان کا پاکیزہ جنازہ سمندر کے کنارے بے گور و کفن رہا اس کے بعد سمندر میں ڈال دیا گیا۔ ظاہرا دنیا میں انکی قبر نہیں ہے لیکن ان کی کتابیں اہل علم کے اذہان و قلوب میں محفوظ ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button