غزہ میں دس لاکھ سے زائد بچے شدید نفسیاتی صدمے کا شکار،یونیسیف کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے غزہ میں بچوں کی ابتر صورتحال پر اپنی تازہ رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی حملے، بچوں کی روزمرہ کی ایک خوفناک حقیقت کا حصہ بن چکے ہیں۔اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز میں، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر سپورٹ اینڈ کمیونیکیشنز عمار عمار نے کہا کہ مقتولین اور زخمیوں کے علاوہ، غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری نے تقریباً گیارہ لاکھ بچوں کو ناقابل علاج نفسیاتی اور جذباتی صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جس سے ان کی نفسیاتی نشوونما کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یونیسیف کے عہدیدار نے تاکید کی کہ اس عرصے کے دوران غزہ پر خطرناک جارحیت بڑے پیمانے پر انجام پا رہی ہے اور امداد سے محرومی، مسلسل جبری نقل مکانی، بھکمری، اسپتالوں، اسکولوں ، پانی کے نیٹ ورک کی تباہی اور گھروں کی تباہی بچوں کے لیے روز مرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ صرف بچوں کے خلاف جنگ نہیں ہے، یہ خود زندگی کی تباہی و نابودی ہے، اور غزہ کے نصف ملین سے زیادہ لوگ قحط اور بھوک کی لپیٹ میں ہیں جب کہ ہم انہیں بچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بروز بدھ ایک بیان میں کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے مقتولین کے جسد خاکی کو قبضے میں رکھنا اور انہيں واپس نہ دینا ایک گھناؤنا اور نفرت انگيز صہیونی جرم ہے جو اس غاصب حکومت کی وحشیگری اور غاصبانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بیان میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک نے قابضین کو بے نقاب کرنے اور لاشوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن طریقے سے دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر متحرک ہونے کا مطالبہ کیا۔