امریکہ

امریکہ میں قرآن کی بےحرمتی کرنے والی کانگریس امیدوار کے اقدام پر شدید ردِعمل

امریکہ میں قرآن کی بےحرمتی کرنے والی کانگریس امیدوار کے اقدام پر شدید ردِعمل

امریکہ کی ریاست ٹیکساس سے کانگریس کی امیدوار ویلینٹینا گومیز نے انتخابی مہم کی ایک ویڈیو میں قرآن پاک کو آگ لگا کر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

حالیہ پوسٹ کی گئی ویڈیو میں گومیز فوجی طرز کی پینٹ اور اپنی مہم کی ٹی شرٹ پہنے نظر آتی ہیں۔ وہ فلیم تھروور سے قرآن پاک کو جلاتے ہوئے کہتی ہیں، اگر ہم اسلام کو ختم نہیں کریں گے تو ہماری بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی اور ہمارے بیٹے قتل کر دیے جائیں گے۔ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے 57 مسلم ممالک میں واپس چلے جائیں۔ صرف ایک سچا خدا ہے اور وہ اسرائیل کا خدا ہے۔’

ویڈیو کے آخر میں وہ اعلان کرتی ہیں کہ ان کی مہم ’یسوع مسیح کی طاقت سے چل رہی ہے۔‘ ان کے انتخابی لوگو میں بھی ان کے نام کے اندر ’i‘ کی جگہ گولی کا نشان بنایا گیا ہے۔

یہ ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا طوفان امڈ آیا ۔ پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے اسے نفرت انگیز مواد قرار دیتے ہوئے اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔

امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے اپنے بیان میں کہا، ’یہ مہم نفرت اور اسلام دشمنی سے بھری ہوئی ہے۔ قرآن جیسے مقدس صحیفے کو جلانا تشدد کو بڑھا سکتا ہے اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس کی مذمت ہر ذی شعور شخص کو کرنی چاہیے۔‘

امریکی صحافی اور پوڈکاسٹر برائن ایلن نے اس پرسخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس انتہا پسندی کو سیاست نہیں بلکہ اشتعال قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں ایلن نے کہا کہ جب آپ مساجد کو آگ لگانے کی بات کریں گے تو یہ نفرت کی چنگاری کو بھڑکانے کے مترادف ہوگا، اور ویلینٹینا گومیز نے اشتعال کو بڑھایا ہے۔

ایک اور صارف نے کہا، ’یہ خاتون بار بار اسلام کی توہین کر کے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔‘

گومیز کا یہ پہلا متنازع عمل نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے ڈمی بنا کر ان کا جعلی قتل دکھا چکی ہیں اور عوامی سطح پر پھانسی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

واضح رہے کہ گومیز خود بھی کولمبیا سے ہجرت کر کے امریکہ آئی تھیں۔ ان کے رویے پر کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو نے بھی سخت ردِعمل دیا اور کہا، ’وہ صرف ایک امریکی فاشسٹ نہیں بلکہ کولمبیا کی شہری بھی ہیں۔ ایک مہاجر ہو کر بھی وہ دوسرے مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلانا چاہتی ہیں۔ امریکہ میں زیادہ تر امریکن ہی، امریکن کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔‘

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button