کربلا میں حاضر ہونے سے زیارت اربعین محقق ہوتی ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
کربلا میں حاضر ہونے سے زیارت اربعین محقق ہوتی ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور بدھ 3 ربیع الاول 1447 ہجری کو منعقد ہوا۔ جس میں گذشتہ جلسات کی طرح حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مفہوم زیارت کے سلسلہ میں فرمایا: عربی لغت میں زیارت کے معنی حاضر ہونے کے ہیں۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: اگر کوئی ایام اربعین میں کربلا گیا اور روضہ امام حسین علیہ السلام میں حاضری دی اگرچہ اس نے ایک بار بھی "السلام عليك يا ابا عبد الله” نہیں کہا پھر بھی وہ زائر ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا: البتہ زیارت نامہ پڑھنا الگ ہے لیکن زیارت، حاضر ہونے سے محقق ہو جاتی ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: عربی زبان میں زیارت یعنی حاضری کے ساتھ ملاقات، اور حاضر ہونا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ میں فلاں صاحب کی زیارت کے لئے گیا، اگر وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہو اور اس سے گفتگو کرے تو یہ زیارت نہیں ہے۔
زیارت یعنی اس کے پاس حاضر ہونا ہے۔ مرحومین کے سلسلے میں بھی یہی معنی ہیں۔ "زیارت اموات و مرحومین” اپنے گھر میں بیٹھ کر فاتحہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ قبر کے پاس حاضر ہونا ہے۔
صرف معصومین علیہم السلام کے لئے دور سے زیارت پڑھنے کو بھی زیارت کہتے ہیں۔ اگرچہ عربی لغت کے مطابق یہ زیارت نہیں ہے۔ لیکن یہ معصومین علیہم السلام کے خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کوئی دور سے "السلام عليك يا ابا عبد الله” کہے تو یہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی روضہ مبارک میں حاضر ہو کر "السلام علیک یا ابا عبداللہ” کہتا ہے۔
یہ صرف معصومین علیہم السلام کے خصوصیات میں سے ہے کہ دور سے بھی ان کو سلام کرنے کو زیارت سمجھا جاتا ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: اسی طرح ہمارے آقا حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کی بھی دور سے زیارت ممکن ہے۔
یہاں زیارت کے معنی میں وسعت پائی جاتی ہے کہ معصومین علیہم السلام کے لئے اگر کوئی دور سے بھی زیارت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
انہوں نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ غیر معصومین کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ دور سے ان کی زیارت ہو سکتی ہے۔ مثلا شیخ عباس قمی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے جو علماء کے لئے زیارت نقل کی ہے اگر اپ یہاں بیٹھ کر کاظمین میں مدفون شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے لئے پڑھیں تو یہ بطور رجاء (ثواب کی امید) ہے نہ کہ بدعت۔
البتہ اگر آپ اسے حکم شریعت سمجھیں تو یہ حرام اور بدعت ہے لیکن اگر شریعت کی نسبت نہ دی جائے تو رجاء (ثواب کی امید) ہے اور اس میں حرج نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے یہ روزانہ علمی نشستیں قبل از ظہر منعقد ہوتی ہیں، جنہیں براہ راست امام حسین علیہ السلام سیٹلائٹ چینل کے ذریعے یا فروکوئنسی 12073 پر دیکھا جا سکتا ہے۔