پاراچنار میں امن معاہدے اور امن تیگہ کے باوجود راستے تاحال بند

پاراچنار سے مجلس وحدت مسلمین کے منتخب ممبر قومی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر انجنیئر حمید حسین کا کہنا ہے امن معاہدے اور امن تیگہ کے باوجود راستوں کی بندش سمجھ سے باہر ہے. حکومت راستے کھولنے اور مین شاہراہ محفوظ بناکر مستقل بنیادوں پر کھولنے کیلئے فوری اقدام کرے۔
ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار اور دیگر علاقوں میں 6 ماہ سے راستوں کی بندش کے باعث لاکھوں آبادی کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے. ضلع بھر میں طویل عرصے سے انٹرنیٹ کی سروس تھری جی اور فور جی بھی بند ہے. متاثرہ لوگوںنے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے سوال کیا ہے کہ آخر انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا سے کب نجات ملے گی؟
فائرنگ کےواقعات اور جھڑپوں کے باعث گذشتہ چھ ماہ سے مین شاہراہ سمیت آمد و رفت کے راستے ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ہر لمحہ بے سکونی میں تبدیل ہو چکا ہے. اپنے ہی آزاد علاقہ میں لوگ محصور بنائے جا چکے ہیں. شہری خوراک و علاج سے بھی محروم کردیے گئے ہیں۔
لاکھوں کی آبادی کو اپنے ہی علاقہ میں اسیر بنائے جانے اور راستے نہ کھولنے کے خلاف پاراچنار پریس کلب کے باہر پانچ ہفتوں سے احتجاجی دھرنا جاری ہے. سماجی رہنما مسرت بنگش کا کہنا ہے راستے کھولنے اور بدامنی متاثرین کو امدادی پیکج ملنے تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
راستے بند ہونے سے لوگوںکے مسائل ہر گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتے ہی جارہے ہیں. بہتر علاج نہ ملنے کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں. روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں. لوگ کھانے پینے کی اشیا سے بھی محروم ہیں. ایسے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عامر نواز کا کہنا ہے عمائیدین قیام امن میں تعاون کا مظاہرہ کریں. فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور راستے کھولنے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔۔