مسجد کوفہ میں ماہ رمضان المبارک میں تقریبا 20 لاکھ زائرین کی حاضری

اس سال ماہ رمضان المبارک میں مسجد کوفہ میں دنیا بھر سے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے حاضری دی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسجد کوفہ میں زائرین کی تعداد تقریبا 20 لاکھ تک پہنچ گئی، جن میں مرد و خواتین کی خاصی تعداد اس مسجد اور یہاں موجود روضوں کی زیارت کے لئے آئی تھی۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
اس سال ماہ رمضان میں مسجد کوفہ میں زائرین کی غیر معمولی تعداد دیکھنے میں آئی۔
مسجد کوفہ کے تعلقات عامہ کے اعلان کے مطابق 28 فروری سے 28 مارچ تک اس مقدس مقام میں داخل ہونے والے زائرین کی تعداد 1735267 تھی۔
اس اعداد و شمار میں 898165 مرد اور 764102 خواتین شامل ہیں، جو مسلمانوں کی مسجد کوفہ کی زیارت کے لئے شدید دلچسپی اور عقیدت کو ظاہر کرتی ہے۔
مسجد کوفہ عراق کے اہم ترین اور مقدس ترین اسلامی مقامات میں شامل ہے۔
امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دور حکومت میں یہ مسجد ان کی حکومت کا مرکزی مقام تھا اور اب یہاں سفیر حسینی جناب مسلم ابن عقیل علیہ السلام، جناب مختار بن ابی عبید ثقفی اور دیگر شہداء کے قبور مقدس ہیں۔
مسلمان خاص طور سے ماہ رمضان میں یہاں آتے ہیں تاکہ اللہ تبارک و تعالی سے زیادہ قریب ہوں اور یہاں کی برکات سے مستفید ہوں۔
اس مقدس مہینہ میں زائرین کرام زیارت کے علاوہ رمضان المبارک کی خصوصی نمازیں اور عبادتیں کرتے ہیں اور اس ماہ کی روحانی فضیلتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔
مسجد کوفہ کی تولیت (انتظامیہ) بھی زائرین کو تفصیلی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ مختلف خدمات فراہم کرتی ہے۔
ان خدمات میں زائرین کرام کے رفت و آمد کا مناسب انتظام، عبادت کے لئے موزوں ماحول فراہم کرنا اور رمضان کے مقدس مہینے میں امن و سلامتی شامل ہے۔
زائرین کی اس تعداد اور تاریخ اسلام میں اس مسجد کی خصوصی اہمیت کے سبب مسجد کوفہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین زیارت گاہوں میں سے ایک کے طور پر جانی جاتی ہے۔
مسجد کوفہ کی فضیلت شیعوں میں بھی بہت نمایاں ہے اور اس سلسلہ میں معصومین علیہم السلام سے بہت سی روایات منقول ہیں۔
یہ مسجد نہ صرف عبادت کے لئے ایک مقدس مقام کے طور پر جانی جاتی ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف بعد ظہور یہاں اپنا دارالحکومت قائم کریں گے۔
اس لئے مسجد کوفہ کو شیعوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور یہ آخری زمانے میں الہی عدل و حکومت کے مظہر کی علامت ہے۔