
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے ایک لاکھ سے زائد ارکان ہندوستان فرار ہوگئے ہیں۔ یہ دعویٰ منگل کو عبوری حکومت کے مشیر اطلاعات محفوظ عالم نے کیا۔ بنگلہ دیشی نیوز پورٹل کے مطابق عالم نے یہ بیان ڈھاکہ میں عید کی ایک تقریب میں دیا جس میں حسینہ کے دور میں لاپتہ اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا انعقاد انسانی حقوق کے ایک گروپ `میئر ڈاک نے ڈھاکہ کے تیجگاؤں میں کیا تھا۔
بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق محفوظ عالم نے شیخ حسینہ پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے والدین کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے لوگوں کو جبراً غائب کیا اور قتل کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے زیادہ تر واقعات۲۰۱۳ء اور۲۰۱۴ء میں ہوئے جب لوگ اپنے حق رائے دہی کیلئے لڑ رہے تھے۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد انتخابی نظام کو تباہ کرنا تھا۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے جبری گمشدگیوں کے معاملات کی تحقیقات کیلئے پہلے ہی ایک کمیشن قائم کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ۵؍ اگست کو حسینہ واجد کی۱۶؍ سالہ عوامی لیگ کی حکومت کو طلبہ کی قیادت میں ایک پرتشدد عوامی بغاوت کے دوران گرا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے۷۷؍ سالہ حسینہ کو بنگلہ دیش سے فرار ہو کرہندوستان میں پناہ لینا پڑا، یہاں وہ چھپ کر رہ رہی ہیں۔ ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ان کے خلاف قتل عام اور بدعنوانی سمیت۱۰۰؍ سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔