اسلامی دنیاتاریخ اسلامشیعہ مرجعیت

4 شوال، یوم وفات آیۃ اللہ شیخ حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ

چودہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و فقیہ آیۃ اللہ شیخ حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ سن 1309 ہجری کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد آیۃ اللہ شیخ علی بن حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ ایک پرہیزگار عالم تھے، جو ایام جوانی میں حلہ سے نجف اشرف تشریف لائے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔

آیۃ اللہ شیخ حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ آیۃ اللہ العظمیٰ آقا ضیاء عراقی رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسین نائینی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ اسی طرح آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جن میں سر فہرست آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ،  آیۃ اللہ العظمیٰ محمد آصف محسنی قندھاری رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید  محمد سعید حکیم رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید  محمد تقی حکیم رحمۃ اللہ علیہ کے اسماء گرامی سرفہرست ہیں۔

آیۃ اللہ شیخ حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ مرد علم و عمل تھے، دنیا سے دور تھے، ریاست و نام و نمود کی جانب کبھی قدم نہیں بڑھایا، بے شک وہ آیت الہی او ستون علم و تقوی تھے۔ حقیقت میں وہ علامہ حلی رحمۃ اللہ علیہ کے وسعت علم و آگاہی کا نمونہ تھے، علم اصول و علم فقہ میں بے نظیر تھے۔ ان کے شاگرد علامہ سید محمد حسین حسینی تہرانی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: آیۃ اللہ شیخ حسین حلی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد روضہ امیرالمومنین علیہ السلام نجف اشرف میں امام جماعت تھے ، انکی وفات کے بعد جب آپ سے امامت کی درخواست کی گئی تو آپ نے اپنے استاد آیۃ اللہ العظمیٰ نائنی رحمۃ اللہ علیہ سے درخواست کی اور لوگوں سے بھی کہا کہ وہ مقدم ہیں اور جب استاد کی رحلت ہو گئی تو دوبارہ آپ کی خدمت میں نماز جماعت کی امامت کی درخواست کی گئی تب بھی آپ نے قبول نہیں کیا۔ آپ فرماتے تھے کہ میں طالب علم ہوں میرا کام درس و تدریس ہے فتویٰ دینا نہیں ہے ، نہ کبھی فتویٰ دیا اور نہ ہی کبھی نماز جماعت کی امامت کی۔

4 شوال 1394 ہجری کو نجف اشرف میں رحلت فرمائی اور روضہ امیر المومنین علیہ السلام میں سپرد خاک ہوئے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button