
سویڈن کی ایک عدالت نے ایک پولیس اہلکار کو دوسرے شخص پر حملہ کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا اور اسے 15,000 سویڈش کرون جرمانہ اور متاثرہ شخص کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
یہ واقعہ مغربی سویڈن کے وینیرسبورگ میں پیش آیا، جہاں پولیس کے ایک گشت نے ایسی گاڑی روکی جس کی ٹیکس ادائیگی واجب الادا تھی۔ سویڈن کے قوانین کے مطابق، اگر گاڑی کا ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو تو اسے سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
گاڑی روکنے پر معلوم ہوا کہ اس کا ڈرائیور 42 سالہ شخص تھا۔ جب پولیس نے اس سے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر سوال کیا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، اور متاثرہ شخص غصے میں آگیا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس شخص نے شناختی نمبر فراہم کرنے سے انکار کیا اور پولیس اہلکاروں کی توہین کی، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔
متاثرہ شخص نے پولیس کے بیان سے اختلاف کیا اور کہا کہ درحقیقت پولیس نے خود جھگڑا شروع کیا۔ اس نے بیان دیا کہ پولیس اہلکار نے اسے کہا: ’’اب میں تمہیں دکھاؤں گا، اے کمبخت مسلمان! یہاں ہم فیصلے کرتے ہیں۔‘‘
متاثرہ شخص کے مطابق، پولیس نے اسے کھڑکی کی طرف دھکیل دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکار نے اسے یہ بھی کہا: "اپنے ملک واپس جاؤ، یہاں ہم فیصلہ کرتے ہیں۔”
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پولیس کی گاڑی کے اندر کیا پیش آیا کیونکہ اس وقت پولیس اہلکاروں کے یونیفارم پر نصب کیمرے فعال نہیں تھے۔ تاہم، پولیس اسٹیشن کے اندر سی سی ٹی وی کیمروں نے بغیر آواز کے کچھ مناظر ریکارڈ کیے۔
پولیس اسٹیشن میں، ایک پولیس اہلکار نے متاثرہ شخص کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے دھکا دیا، جس کی وجہ سے اس کا سر دیوار سے ٹکرا گیا۔ پولیس اہلکار نے جرم سے انکار کیا، لیکن واقعے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص مسلسل بات کر رہا تھا اور احکامات نہیں مان رہا تھا، جس پر اس نے طاقت کا استعمال کیا۔
تاہم، عدالت نے پولیس اہلکار کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص کو بلاوجہ تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے پولیس اہلکار پر 15,000 سویڈش کرون کا جرمانہ عائد کیا، جو متاثرہ شخص کو بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔