اسلامی دنیاتاریخ اسلامدنیاشیعہ مرجعیت

3 شوال؛ یوم وفات آیۃ اللہ سید محمد حسین مرعشی شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ (مترجم: الخصائص الحسینیہ)

تیرہویں و چودہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و فقیہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین مرعشی شہرستانی حائری المعروف بہ شہرستانی ثانی رحمۃ اللہ علیہ 15 شوال المکرم 1255 ہجری کو کرمانشاہ ایران میں پیدا ہوئے، 31 واسطوں سے آپ کا سلسلہ نسب امام زین العابدین علیہ السلام سے ملتا ہے۔ ددہیال اور ننہیال دونوں جانب سے آپ علمی خانوادوں سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے جد مرحوم سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ، والد ماجد سید محمد علی شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ، نانا آقا احمد کرمانشاہی رحمۃ اللہ علیہ اور چچا سید محمد تقی شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے معروف عالم و فقیہ اور صاحب قلم تھے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ نے عربی اور فارسی ادب اپنے والد سے پڑھا، صمدیہ اور الفیہ جیسی بعض اہم حوزوی کتابوں کو حفظ کیا، 13 برس کی عمر میں عراق تشریف لے گئے اور کربلا میں قیام پذیر ہوئے، آیۃ اللہ العظمیٰ فاضل اردکانی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ مرتضی انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا، آیۃ اللہ العظمیٰ فاضل اردکانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد کربلا معلی میں مسند تدریس و مرجعیت پر جلوہ افروز ہوئے۔

سن 1282 ہجری میں اپنے والد اور سن 1287 ہجری میں اپنے استاد آیۃ اللہ العظمیٰ فاضل عرض کانی سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا۔

تراجم و تالیفات پر مشتمل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ کے تقریبا 100 علمی آثار موجود ہیں، جن میں "الخصائص الحسینیہ” کا ترجمہ "اشک روان بر امیر کاروان” سر فہرست ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جن میں مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے والد آیۃ اللہ سید شمس الدین محمود مرعشی رحمۃ اللہ علیہ اور بر صغیر کے عظیم عالم و فقیہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید سبط حسین نقوی جائسی رحمۃ اللہ علیہ کے اسماء گرامی سرفہرست ہیں۔

واضح رہے کہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید سبط حسین نقوی جائسی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریبا 13 برس آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی۔ وہ اپنے استاد کو یاد کر کے فرمایا کرتے تھے: "اگر آقای شہرستانی اور زندہ رہتے تو میں زندگی بھر ان کے درس میں پڑھنے جایا کرتا۔”

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کہ نمایاں خدمات میں سے ایک انحرافی فرقوں سے مقابلہ شامل ہے۔ جیسے فرقہ شیخیہ سے مقابلہ کیا، ان کی رد میں کتابیں لکھیں۔ اسی طرح عیسائیوں سے بھی مقابلہ کیا اور ان کی رد میں دو کتابیں تالیف فرمائی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسین شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعرات 3 شوال 1315 ہجری کو دنیا سے رحلت فرمائی اور روضہ امام حسین علیہ السلام کربلا معلی میں سپرد خاک ہوئے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button