ایشیاءخبریںدنیاہندوستان

ہندوستان: بی جے پی کی ضد برقرار، وقف ترمیمی بل آج پارلیمنٹ میں پیش ہوگا، اپوزیشن کا سخت احتجاج

نئی دہلی، 2 اپریل – حکمراں جماعت بی جے پی نے تمام تر مخالفتوں کے باوجود آج پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس متنازع بل کو بدھ کے روز دوپہر 12 بجے لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں اس کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم اپوزیشن نے اس میٹنگ سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، بل پر تقریباً 8 گھنٹے کی بحث کا وقت مقرر کیا گیا ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ اس دوران سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر خاص طور پر چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار پر مرکوز رہے گی، کیونکہ ان کا فیصلہ اس معاملے میں اہم کردار ادا کرے گا اور مسلمانوں کے حوالے سے ان کے نظریے کو واضح کرے گا۔

وقف ترمیمی بل ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت کئی مسلم تنظیمیں اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کر رہی ہیں۔ حکومت کو اس بل کو منظور کرانے میں سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نہ صرف سڑکوں پر عوامی احتجاج جاری ہے بلکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی اس کی زبردست مخالفت متوقع ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کو مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے میں مکمل تیاری کے ساتھ ایوان میں حکومت کو گھیرنے کے لیے تیار ہے۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ وقفۂ سوالات کے بعد بل پیش کیا جائے گا، اور اس پر 8 گھنٹے کی بحث طے کی گئی ہے۔ اگر ایوان میں اتفاق ہوا تو اس وقت میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بحث سے بھاگنا چاہتا ہے یا واک آؤٹ کرنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم اس کے لیے صحت مند بحث ضروری ہے۔ رجیجو نے مزید کہا کہ یہ ایک "اچھا بل” ہے، اور یہ ریکارڈ میں درج ہوگا کہ کس نے اس کی حمایت اور کس نے مخالفت کی۔

بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں اپوزیشن نے بل کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ اس پر کم از کم 12 گھنٹے بحث کی جائے، تاہم حکومت نے اجلاس کے اختتام کے قریب ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے 8 گھنٹے کی بحث پر اصرار کیا۔

ذرائع کے مطابق، این ڈی اے میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین کو پارلیمنٹ میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحث کے دوران کوئی ایسا بیان نہ دیا جائے جس سے اپوزیشن کو مزید احتجاج کا موقع ملے۔

کانگریس نے اپنے تمام لوک سبھا اراکین کو وہپ جاری کرتے ہوئے بدھ کی صبح 11 بجے ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے کہا کہ یہ ایک "اہم مسئلہ” ہے اور پارٹی کے تمام اراکین کو اس میں شامل ہونا چاہیے تاکہ کانگریس کے مؤقف کی حمایت کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، انڈیا اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں نے بھی اپنے اراکین کو پارلیمنٹ میں حاضری یقینی بنانے کے احکامات دیے ہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں طے کیا گیا ہے کہ بل کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی بھی شریک تھے۔

حکومت کو وقف ترمیمی بل منظور کرانے میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن کے سخت مؤقف اور ملک بھر میں جاری احتجاج کے پیش نظر، پارلیمنٹ میں آج کا اجلاس خاصا گرما گرم رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button