ثقافت اور فنخبریںصحت اور زندگیعلم اور ٹیکنالوجی

پارکنسن کے علاج میں پیش رفت: سائنسدانوں کی اہم دریافت

سائنسدانوں نے پارکنسنز بیماری میں کلیدی کردار ادا کرنے والے PINK1 پروٹین کی ساخت کو دریافت کر لیا ہے، جو اس بیماری کے علاج کے لیے نئی دوائیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے والٹر اینڈ ایلیزا ہال انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے پہلی بار یہ مشاہدہ کیا ہے کہ PINK1 کس طرح خراب شدہ مائٹوکونڈریا سے جُڑ کر ان کے صحیح طریقے سے کام کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

یہ اہم دریافت، جو معروف سائنسی جریدے "سائنس” میں شائع ہوئی ہے، اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ PINK1 میں پائے جانے والے تغیرات (میوٹیشنز) دماغی خلیات کی موت کا باعث کیسے بنتے ہیں، جو پارکنسنز کی نمایاں علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ PINK1 کی سرگرمی کو سمجھ کر ایسی دوائیں تیار کی جا سکتی ہیں جو اس بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو کم کر سکیں یا اسے مکمل طور پر روک سکیں۔ برطانیہ کے ماہر نیورولوجسٹ اس دریافت کو پارکنسنز کے علاج میں انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

برطانیہ میں 1,53,000 افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں اور فی الحال اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں PINK1 کو ہدف بنانے والی دوائیوں کی تیاری کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے دیگر عصبی انحطاطی (نیوروڈیجینریٹیو) بیماریوں کے علاج میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button