ایشیاءخبریںدنیاہندوستان

مسلم نوجوانوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جارہی ہے، حسین دلوائی کا الزام

ناگپور: کانگریس لیڈر اور کانگریس ستیہ شودھن سمیتی کے رکن حسین دلوائی نے منگل کے روز شہر کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس سے قبل، انہوں نے پولیس کمشنر رویندر سنگل سے ملاقات کی اور حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کانگریس ستیہ شودھن سمیتی کے رکن مانیک راؤ ٹھاکرے اور رکن اسمبلی ساجد پٹھان نے ناگپور کا دورہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم پولیس نے انہیں متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

دورے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسین دلوائی نے پولیس کی کارروائی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی یکطرفہ ہے اور معاملے کو سوجھ بوجھ اور صبر سے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ اگر قرآنی آیات لکھی چادر جلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی تو شاید فساد نہ بھڑکتا۔ اب مسلم نوجوانوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جارہی ہے، جس پر ہمیں سخت اعتراض ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد ہی ملزمین کو گرفتار کیا جائے۔‘‘

انہوں نے پولیس پر 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔

پریس کانفرنس کے دوران حسین دلوائی سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے اورنگ زیب سے متعلق بیان پر بھی سوال کیا گیا۔ اس پر دلوائی نے وزیر اعلیٰ کو پہلے مغلوں کی تاریخ پڑھنے اور پھر دعوے کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اورنگ زیب نے سمبھاجی مہاراج کے قتل کا ظالمانہ حکم دیا تھا، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی دارا شکوہ کو بھی اسی طرح قتل کیا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق، پنڈتوں نے اورنگ زیب کو منوسمرتی کے اصولوں کے تحت سمبھاجی مہاراج کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ کیا وزیر اعلیٰ فرنویس ان تاریخی حقائق کو تسلیم کریں گے؟‘‘

دوسری جانب، پولیس کمشنر رویندر سنگل نے فساد میں ملوث 51 مشتبہ افراد کی فہرست میونسپل کارپوریشن کو فراہم کی ہے، جن میں سے بعض کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، آئندہ دنوں میں مزید مکانات منہدم کیے جانے کا امکان ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق، اگر کسی عمارت کی تمام تعمیرات غیر قانونی ہیں تو 24 گھنٹے کے اندر نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جبکہ جزوی طور پر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں 35 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔

اس صورتحال پر عوامی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ شہر میں برسوں سے موجود غیر قانونی تعمیرات پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ رام داس پیٹھ، سینٹرل بازار روڈ، بجاج نگر اور کاچھی پورہ جیسے علاقوں میں کئی غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے آج تک کسی بھی عمارت کو 24 گھنٹوں میں منہدم کرنے کی مثال قائم نہیں کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button