اسلامی دنیاتاریخ اسلامخبریںماتمی انجمنیں اور حسینی شعائرہندوستان

 28 فروری، یوم وفات معروف شاعر، لغت نویس و صحافی نسیم امروہوی مرحوم

سیّد قائم رضا نقوی المعروف بہ نسیم امروہوی مرحوم 24 اگست 1908ء کو امروہہ کہ ایک سید، دینی، علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا سلسلہ نسب امام زادہ حضرت موسی مبرقع علیہ السلام ابن امام محمد تقی علیہ السلام سے ملتا ہے۔‌

 انھوں نے خالص علمی، ادبی اور مذہبی ماحول میں آنکھ کھولی، شعر و سخن کا سلسلہ ان کے جد اعلیٰ سید حیدر حسین یکتا سے شروع ہوا۔ یکتا کے بعد ان کے فرزند شمیم امروہوی نے شعر گوئی کا مشغلہ جاری رکھا۔ شمیم امروہوی اپنے عہد کے بلند پایہ مرثیہ نگار اور قادر الکلام شاعر تھے۔ شمیم امروہوی کو تمام اصنافِ سخن میں استادانہ مہارت حاصل تھی۔

نسیم امروہوی کے والد، دادا اور پردادا تینوں شاعر تھے۔ والدہ بھی شاعرہ تھیں اور شعر کا اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔ یوں نسیم کو شاعری کا ذوق ورثے میں ملا۔ والد اور دادا کی تحریک اور تربیت کے اثرات تھے کہ بہت جلد شعر کہنے لگے۔ ابتدا میں جو شعر کہتے وہ والدہ اور پھوپھی کو دکھاتے تھے، وہ ان اشعار پر اصلاح دیتیں۔ بعد میں نسیم اپنے ادبیات و صرف و نحو کے اساتذہ  سے مشورہ سخن لینے لگے۔

پہلی بار محض 15 برس کی عمر میں اپنا تصنیف کردہ مرثیہ پڑھا تو "نسیم” کا تخلص ملا کہ اصل نام قائم رضا سے اکثر لوگ بے خبر ہو گئے اور نسیم امروہوی ہی جانتے ہیں۔

نسیم امروہوی کو عربی فارسی میں بھی مہارت حاصل تھی۔ میرٹھ منصبیہ عربی کالج اور دوسری درسگاہ میں تدریس کی، اس کے بعد ایک عرصہ لکھنو میں بھی قیام کیا جہاں مختلف حالات سے دوچار ہوئے البتہ لکھنو فن و ہنر کے حوالے سے بہتر ثابت ہوا۔

تقسیم ملک پر پاکستان چلے گئے اور تا عمر وہی قیام کیا۔ 28 فروری 1987 کو کراچی میں انتقال ہوا اور مسجدآل عبا کے احاطے میں سپرد خاک ہوئے۔

 نسیم امرہوی مرحوم کی علوم دینی میں درس و تدریس کے پیش نظر اگر انہیں عالم دین لکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اگرچہ کثرت مرثیہ نگاری کے سبب ان کی شہرت ایک ادیب، لغت نویس اور استاد شاعر کے عنوان سے ہے۔

نسیم امروہوی مرحوم نے بہت سی کتابیں تحریر فرمائی جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

نسیم اللغات، فرہنگِ اقبال (اردو)، فرہنگِ اقبال (فارسی)، رئیس اللغات، مراثی نسیم، فلسفۂ غم، چشمۂ غم (65 مرثیوں کا مجموعہ) وغیرہ

 نسیم امروہوی نے اپنی زندگی میں227 مراثی نظم کئے اور کسی بھی مرثیہ میں کسی ضعیف اور اختلافی روایت کو نظم نہیں کیا۔ جیسے کربلا میں جناب قاسم ابن حسن علیہ السلام کے عقد کی روایت اختلافی ہے تو نسیم امروہوی نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اس کو نظم کرنے سے اجتباب کیا۔ فرماتے ہیں۔

سنئے وفائے قاسم ذی جاہ و گلبدن

 کرنا نہیں ہے ذکر عروسی دم سخن

اس رنگ میں نیا ہے یہ افسانہ کہن

جس میں ہوں دو فریق وہ زیبا نہیں سخن

 اہل نظر کو شک ہے عروسی کے باب میں

ہم کیوں لکھیں ضعیف روایت شباب میں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button