اسلامی دنیاتاریخ اسلامخبریںشیعہ مرجعیت

28 شعبان، یوم وفات آیۃ اللہ العظمیٰ سید مہدی حسینی شیرازی

28 شعبان کو آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی، آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق شیرازی اور شہید آیۃ اللہ سید حسن شیرازی کے والد آیۃ اللہ العظمیٰ سید مہدی حسینی شیرازی نے رحلت فرمائی۔

علم اور دین کی خدمت میں اپنی زندگی گزارنے والے اس عظیم الشان مرجع تقلید نے تاریخ تشیع میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

28 شعبان کو آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی، آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق شیرازی اور آیۃ اللہ سید حسن شیرازی کے والد آیۃ اللہ العظمیٰ سید مہدی حسینی شیرازی نے رحلت فرمائی۔

آپ سن 1304 ہجری قمری کو کربلا معلی میں پیدا ہوئے۔

اپنے والد بزرگوار آیۃ اللہ سید حبیب اللہ شیرازی کی وفات کے بعد والدہ ماجدہ اور بڑے بھائی سید عبداللہ کے زیر سایہ پروان چڑھے اور ابتدائی دینی تعلیم کربلا معلی میں حاصل کی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی نے کافی عرصہ کاظمین اور سامرا میں تعلیم حاصل کی، پھر نجف اشرف کی جانب ہجرت کی اور تقریبا 20 سال وہاں رہے۔

اس کے بعد کربلا واپس آئے اور تا حیات یہیں قیام پذیر رہے۔

آپ نے آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی، آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا علی آقا شیرازی اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد کاظم طباطبائی یزدی جیسے عظیم علماء اور مراجع سے کسب فیض کیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی کی مرجعیت 1365 یا 1366 ہجری میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابو الحسن اصفہانی اور آیۃ اللہ العظمیٰ حسین قمی کی وفات کے بعد شروع ہوئی اور تیزی سے پھیل گئی۔

آپ اہم سیاسی اور سماجی تحریکوں میں بھی پیش پیش رہے اور 1920 کے عراقی انقلاب اور عراق میں کمیونسٹوں کے خلاف فتوی جاری کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اسی طرح آپ کربلا میں جشن میلاد امیر المومنین علیہ السلام کے بانی بھی ہیں جو رفتہ رفتہ عراق کے دیگر شہروں میں پھیل گیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا مہدی شیرازی 28 شعبان 1380 ہجری کو آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی کی وفات سے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل وفات پا گئے۔ ان کی یاد اور کام شیعہ مرجعیت کی تاریخ میں باقی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button