ایشیاءخبریںہندوستان

ہندوستان : ماہر علم عروض ڈاکٹر شعور اعظمی کا انتقال

اردو ادب کے معروف شاعر، ادیب اور عروض کے ماہر ڈاکٹر سید قاسم مہدی المعروف "شعور اعظمی” کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال سے علمی و ادبی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

شعور اعظمی یکم ستمبر 1957 کو چماواں، اعظم گڑھ (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد استاد شاعر مہدی اعظمی تھے۔ انہوں نے طبیہ کالج ممبئی سے ڈی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کی اور معالج کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

ادبی لحاظ سے وہ ہندوستان کے استاد الشعراء میں شمار ہوتے تھے اور علم عروض میں مہارت رکھتے تھے۔ عروض پر ان کی کئی اہم تصانیف منظرِ عام پر آئیں۔ ان کی کتاب عروض شعور ممبئی یونیورسٹی کے بی اے کے نصاب میں شامل تھی، جبکہ فرہنگِ شعور ایم اے اردو کے نصاب میں جگہ پا چکی تھی۔ اردو اکادمی اتر پردیش نے ان کی کتاب کو انعام سے بھی نوازا۔

شعور اعظمی کی شاعری میں فارسی، اردو، عربی اور ہندی کا حسین امتزاج ملتا تھا۔ ان کے نوحے، سلام اور قصائد برصغیر کی معروف انجمنوں میں پڑھے جاتے تھے۔ انہوں نے کئی نسلوں کو اصلاحی شاعری سے فیض پہنچایا اور سیکڑوں شعراء کی اصلاح کی۔

وہ جامعہ امام امیرالمومنین علیہ السلام، نجفی ہاؤس ممبئی کے استاد بھی تھے، جہاں انہوں نے شاگردوں کی علمی و ادبی تربیت کی۔

ان کے انتقال سے اردو ادب کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جسے مدتوں پورا نہیں کیا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button