پاكستان : علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے وارنٹ گرفتاری پر ملک بھر میں شدید ردعمل

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر ملک بھر میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر یہ وارنٹ واپس نہ لیے تو ملک گیر سطح پر احتجاج اور مظاہروں کا خدشہ ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی اس فیصلے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور کئی آزاد ضمیر افراد حکومت پاکستان کے اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
وحدت یوتھ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ تصور مہدی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ہماری ریڈ لائن ہیں، اور ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے اور ان سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف شیعہ برادری کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
علامہ تصور مہدی نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر وارنٹ گرفتاری واپس نہ لیے گئے تو عوامی اور جمہوری مزاحمت کا حق محفوظ رکھا جائے گا، اور حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اسی طرح، مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے بھی اس اقدام کو حکومت کی بوکھلاہٹ اور انتقامی سیاست کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ سب حق و صداقت کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔
اس سے قبل، مجلس وحدت مسلمین کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا تھا۔